LeftRight

کافی عرصہ ایک ساتھ گذارنے کے بعد ایک دن لڑکے نے لڑکی سے کہا۔۔۔۔۔ �میرے خیال ہے اب ہمیں شادی کرلینی چاہیے!�
لڑکی نے کچھ سوچ کرکہا۔۔۔۔�وہ تو ٹھیک ہے لیکن ہم سے شادی کرے گا کون؟�
تو قبلہ قارئین صاحبب !آج کل شادیوں کا سیزن ہے۔روزانہ ڈیڑھ دوکلو نکاح
ہورہے ہیں۔ میرے دوست مجھ سے پوچھنے لگے�تم شادی کب کررہے ہو؟�
میں نے سر جھکا کر کہا۔۔۔۔۔� جس دن حکیم صاحب نے اجازت دے دی۔۔۔۔۔�
وہ زور سے اُچھلے۔۔۔۔۔

Affordable SEO by SEOClerks

بلیک فرائیڈے نامی اصطلاح کو لیکر کچھ مسلمان دوستوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ چونکہ یہ ہمارا مقدس مذہبی دن ہے اسلئے اسے بلیک فرائیڈے نا کہا جاۓ ، آنے والے ایک دو روز میں اس ” بلیک فرائیڈے ” کو لیکر مزید شدت آنے کا امکان ہے . کچھ دوست بلیک فرائیڈے کے مدمقابل وائٹ فرائیڈے ، برائٹ فرائیڈے یا بلیسڈ فرائیڈے کی اصطلاح استعمال کرنے لگے ہیں .
چلیں سب سے پہلے تو یہ سمجھ ؛لیتے ہیں کہ یہ ” بلیک فرائیڈے ” ہے کیا ؟


پرواز کے بیس منٹ بعد درازقد جوان کاک پٹ کی جانب بڑھا، ایئر ہوسٹس نے بڑے ادب سے کہا تھا۔ ’’سر آپ تشریف رکھیں، کاک پٹ میں جانیکی اجازت نہیں۔‘‘ مگر خوبرو فضائی مہمان کو جواب دینے کے بجائے یہ نوجوان دھکا دیتے ہوئے کاک پٹ میں گھس گیا۔ ایئر ہوسٹس جو گرتے گرتے سنبھلی تھی، اسکی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ اسے یہ سانسیں بھی آخری لگ رہی تھیں۔ ایک لمحے میں اس کا چہرہ خوف سے پسینے سے شرابور ہوا اور سرخ و سفید سے زرد پڑ گیا۔ نوجوان نے کاک پٹ میں داخل ہوتے ہی پسٹل نکال کر پائلٹ کی کن پٹی پر رکھ دیا۔ اسی دوران اس دہشتگرد کے دو ساتھی بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور پسٹل مسافروں پر تان لئے۔


ﯾﮧ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ 40 ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﮬﯿﮟ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻭﺍﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺗﮏ ﺿﺮﻭﺭ ﭘﮩﻨﭽﺎﺋﯿﮟ
ﺟﺰﺍﮎ ﺍﻟﻠﮧ

💠 ﺍِﻧّﻤﺎ ﺍﻻَﻋْﻤَﺎﻝُ ﺑِﺎﻟﻨّﯿَّﺎﺕ
ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﺎ ﺩﺍﺭﻭﻣﺪﺍﺭ ﻧﯿﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻟﺼّﻠٰﻮﺓ ﻧُﻮﺭُ ﺍﻟﻤُﻮﻣِﻦِ
ﻧﻤﺎﺯ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻟﺼّﯿَﺎﻡُ ﺟُﻨّﺔٌ
ﺭﻭﺯﮦ ﮈﮬﺎﻝ ﮬﮯ

💠 ﺍِﻥّ ﺍﻟﺪِّﯾﻦَ ﯾُﺴْﺮ
ﺑﯿﺸﮏ ﺩﯾﻦ ﺁﺳﺎﻥ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻟﺪِّﯾﻦُ ﺍﻟﻨَّﺼِﻴﺤَﺔُ
ﺩﯾﻦ ﺧﯿﺮﺧﻮﺍﮬﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻟﻌَﯿﻦُ ﺣَﻖٌّ
ﻧﻈﺮِ ﺑﺪ ﺣﻖ ﮬﮯ


The history of Pakistan is marked with golden chapters one of them being the 6th of September when its armed forces defended the country in 1965.

The day is still observe after a passage of 52 years since India thrust another war upon Pakistan with disastrous results and dismemberment of the country.

People strongly feel that it is now more important to remember the 6th September, 1965, as it was Pakistan’s finest hour.

The 6th of September is important because the war between Pakistan and India that followed was fought by Pakistan as a nation united in its determination and resolve to stop and repel the attacks by India.

While a number of decisions made by the army high command during the four wars fought by the country have been the subject of controversy, what has remained unquestioned is the valour displayed by thousands of jawans and young officers in all these conflicts.

There are those of the mindset who feel that 6th September should be renamed “memorial day”.


یوں تو مُجرِم کی ہر اِک بات بھُلا دی جائے
بے وَقوفی پہ مگر سخت سزا دی جائے

عَدل ہوتا رہے پر کوئی سزا نہ پائے
شعبدہ بازی کی تاریخ بڑھا دی جائے

قاضی بہرا ہو تو گونگے کو وَکالت دے کر
چار اَندھوں کو سماعت یہ دِکھا دی جائے

لوحِ گُم گشتہ میں ہر فیصلہ کر کے محفوظ
پڑھ کے تحریرِ شہنشاہی سنا دی جائے

حق مکرر سنے جانے کا ہے توہینِ قضا
اِعتراضات پہ تعزیر لگا دی جائے

اَپنے اَعمال پہ گَڑ جائے زَمیں میں فی الفور
عَدل کی آنکھ سے گر پٹّی ہٹا دی جائے

عَدل کے فیصلوں میں پختگی آ جائے قیسؔ
اِک کٹہرے میں اَگر آگ جلا دی جائے

شہزادقیس کی کتاب – انقلاب سے انتخاب


آنکھ کی پتلی پہ بھی چوکی بنا دی جائے
سب کو سرکار کی عینک ہی لگا دی جائے

ذِہن کی جامہ تلاشی کا بنا کر قانون
سوچنے والوں کو موقعے پہ سزا دی جائے

چند ’’ منظور شدہ ‘‘ خوابوں کو کر کے تقسیم
رات بھر جاگنے پہ قید بڑھا دی جائے

آرزُو جو کرے دیوانوں میں کر دو شامل
خواب جو دیکھے اُسے جیل دِکھا دی جائے

آج سے قومی پرندہ ہے ہمارا طوطا
نسل شاہین کی چن چن کے مٹا دی جائے

تتلیاں دُور نکل جانے پہ اُکساتی ہیں
راتوں رات اِن پہ کوئی بجلی گرا دی جائے

عقل والوں کو ڈَراتے ہیں تو ڈَر جاتے ہیں
قیسؔ بن جانے پہ تعزیر لگا دی جائے

شہزادقیس کی کتاب – انقلاب سے انتخاب


لاش پر گولی محبت سے چلا دی جائے
آرزُو دار پہ تا مرگ چڑھا دی جائے

ڈھانپ دو غم کے گھنے اَبر سے نُورِ خورشید
اَندھی ملکہ کے لیے شمع جلا دی جائے

سر کے جگنو کی سَرِ شام لگا کر بولی
وَحشتِ شب کو تسلی سے ہَوا دی جائے

دیپ روشن نہ کرے کوئی اِجازَت کے بغیر
ہتھکڑی گھر کے چراغاں پہ لگا دی جائے

قتل کو روکنا ترجیح نہیں حاکم کی
کم سے کم وَقت پہ دیت تو اَدا کی جائے

چار مظلوم کہیں یکجا نہ ہونے پائیں
تعزیت کرنے پہ تعزیر لگا دی جائے

مجنوں بننے کے سِوا قیسؔ کوئی رَستہ کہاں
جب غزل مرحبا کہتے ہی بھُلا دی جائے

شہزادقیس کی کتاب – انقلاب سے انتخاب