LeftRight

ﯾﮧ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ 40 ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﮬﯿﮟ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻭﺍﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺗﮏ ﺿﺮﻭﺭ ﭘﮩﻨﭽﺎﺋﯿﮟ
ﺟﺰﺍﮎ ﺍﻟﻠﮧ

💠 ﺍِﻧّﻤﺎ ﺍﻻَﻋْﻤَﺎﻝُ ﺑِﺎﻟﻨّﯿَّﺎﺕ
ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﺎ ﺩﺍﺭﻭﻣﺪﺍﺭ ﻧﯿﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻟﺼّﻠٰﻮﺓ ﻧُﻮﺭُ ﺍﻟﻤُﻮﻣِﻦِ
ﻧﻤﺎﺯ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻟﺼّﯿَﺎﻡُ ﺟُﻨّﺔٌ
ﺭﻭﺯﮦ ﮈﮬﺎﻝ ﮬﮯ

💠 ﺍِﻥّ ﺍﻟﺪِّﯾﻦَ ﯾُﺴْﺮ
ﺑﯿﺸﮏ ﺩﯾﻦ ﺁﺳﺎﻥ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻟﺪِّﯾﻦُ ﺍﻟﻨَّﺼِﻴﺤَﺔُ
ﺩﯾﻦ ﺧﯿﺮﺧﻮﺍﮬﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻟﻌَﯿﻦُ ﺣَﻖٌّ
ﻧﻈﺮِ ﺑﺪ ﺣﻖ ﮬﮯ

Affordable SEO by SEOClerks

The history of Pakistan is marked with golden chapters one of them being the 6th of September when its armed forces defended the country in 1965.

The day is still observe after a passage of 52 years since India thrust another war upon Pakistan with disastrous results and dismemberment of the country.

People strongly feel that it is now more important to remember the 6th September, 1965, as it was Pakistan’s finest hour.

The 6th of September is important because the war between Pakistan and India that followed was fought by Pakistan as a nation united in its determination and resolve to stop and repel the attacks by India.

While a number of decisions made by the army high command during the four wars fought by the country have been the subject of controversy, what has remained unquestioned is the valour displayed by thousands of jawans and young officers in all these conflicts.

There are those of the mindset who feel that 6th September should be renamed “memorial day”.


یوں تو مُجرِم کی ہر اِک بات بھُلا دی جائے
بے وَقوفی پہ مگر سخت سزا دی جائے

عَدل ہوتا رہے پر کوئی سزا نہ پائے
شعبدہ بازی کی تاریخ بڑھا دی جائے

قاضی بہرا ہو تو گونگے کو وَکالت دے کر
چار اَندھوں کو سماعت یہ دِکھا دی جائے

لوحِ گُم گشتہ میں ہر فیصلہ کر کے محفوظ
پڑھ کے تحریرِ شہنشاہی سنا دی جائے

حق مکرر سنے جانے کا ہے توہینِ قضا
اِعتراضات پہ تعزیر لگا دی جائے

اَپنے اَعمال پہ گَڑ جائے زَمیں میں فی الفور
عَدل کی آنکھ سے گر پٹّی ہٹا دی جائے

عَدل کے فیصلوں میں پختگی آ جائے قیسؔ
اِک کٹہرے میں اَگر آگ جلا دی جائے

شہزادقیس کی کتاب – انقلاب سے انتخاب


آنکھ کی پتلی پہ بھی چوکی بنا دی جائے
سب کو سرکار کی عینک ہی لگا دی جائے

ذِہن کی جامہ تلاشی کا بنا کر قانون
سوچنے والوں کو موقعے پہ سزا دی جائے

چند ’’ منظور شدہ ‘‘ خوابوں کو کر کے تقسیم
رات بھر جاگنے پہ قید بڑھا دی جائے

آرزُو جو کرے دیوانوں میں کر دو شامل
خواب جو دیکھے اُسے جیل دِکھا دی جائے

آج سے قومی پرندہ ہے ہمارا طوطا
نسل شاہین کی چن چن کے مٹا دی جائے

تتلیاں دُور نکل جانے پہ اُکساتی ہیں
راتوں رات اِن پہ کوئی بجلی گرا دی جائے

عقل والوں کو ڈَراتے ہیں تو ڈَر جاتے ہیں
قیسؔ بن جانے پہ تعزیر لگا دی جائے

شہزادقیس کی کتاب – انقلاب سے انتخاب


لاش پر گولی محبت سے چلا دی جائے
آرزُو دار پہ تا مرگ چڑھا دی جائے

ڈھانپ دو غم کے گھنے اَبر سے نُورِ خورشید
اَندھی ملکہ کے لیے شمع جلا دی جائے

سر کے جگنو کی سَرِ شام لگا کر بولی
وَحشتِ شب کو تسلی سے ہَوا دی جائے

دیپ روشن نہ کرے کوئی اِجازَت کے بغیر
ہتھکڑی گھر کے چراغاں پہ لگا دی جائے

قتل کو روکنا ترجیح نہیں حاکم کی
کم سے کم وَقت پہ دیت تو اَدا کی جائے

چار مظلوم کہیں یکجا نہ ہونے پائیں
تعزیت کرنے پہ تعزیر لگا دی جائے

مجنوں بننے کے سِوا قیسؔ کوئی رَستہ کہاں
جب غزل مرحبا کہتے ہی بھُلا دی جائے

شہزادقیس کی کتاب – انقلاب سے انتخاب


دِل دَھڑکنے پہ بھی پابندی لگا دی جائے
لاش اِحساس کی سُولی پہ چڑھا دی جائے

جاں بچانے کا پتنگوں کی بہانہ کر کے
شمع جلنے سے بھی کچھ پہلے بجھا دی جائے

روز خود سوزِیوں سے اُٹھتی ہے ہم پر اُنگلی
خود کشی جو کرے گردَن ہی اُڑا دی جائے

لوگ خوشبو کے تعاقب میں نکل پڑتے ہیں
پھول پر دیکھتے ہی گولی چلا دی جائے

سانس لینے کے بھی اَوقات مقرر کر کے
حَبس دَر حَبس کو دوزَخ کی ہَوا دی جائے

کام تحریر مٹانے کا بہت بڑھنے لگا
نعرے لکھے ہوں تو دیوار گرا دی جائے

جبرِ حالات سے ہر شخص کو مجنوں کر کے
بھیڑ میں قیسؔ کی آواز دَبا دی جائے

شہزادقیس کی کتاب – انقلاب سے انتخاب


اَبر کے چاروں طرف باڑ لگا دی جائے
مفت بارِش میں نہانے پہ سزا دی جائے

سانس لینے کا بھی تاوان کیا جائے وُصول
سبسڈی دُھوپ پہ کچھ اور گھٹا دی جائے

قہقہہ جو بھی لگائے اُسے بِل بھیجیں گے
پیار سے دیکھنے پہ پرچی تھما دی جائے

کون اِنسان ہے کھاتوں سے یہ معلوم کرو
بے لگانوں کی تو بستی ہی جلا دی جائے

یہ اَگر پیشہ ہے تو اِس میں رِعایت کیوں ہو
بھیک لینے پہ بھی اَب چُنگی لگا دی جائے

حاکمِ وَقت سے قزاقوں نے سیکھا ہو گا
باج نہ ملتا ہو تو گولی چلا دی جائے

کچی مِٹّی کی مہک مفت طلب کرتا ہے
قیسؔ کو دَشت کی تصویر دِکھا دی جائے

شہزادقیس کی کتاب – انقلاب سے انتخاب ۔


ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﺍِﺻﻼﺡ ﻓﺮﻣﺎ، ﮬﻤﯿﮟ ﮬﺪﺍﯾﺖ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﭼﻼ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﮏ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﺩﮮ ﺍﻭﺭﮬﻤﯿﮟ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﻳﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﻴﺮﻱ ﻋﺰﺕ ﮐﻴﻠﺌﮯ ﻳﮩﻲ ﮐﺎﻓﻲ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻣﻴﮟ ﺗﻴﺮﺍ ﺑﻨﺪﮦ ﮬﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻴﺮﮮ ﻓﺨﺮ ﮐﻴﻠﺌﮯﻳﮩﻲ ﮐﺎﻓﻲ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺗﻮ ﻣﻴﺮﺍ ﺭﺏ ﮬﮯ ﺍﮮ ﻣﻴﺮﮮ ﭘﺎﮎ ﺭﺏ ﺗﻮ ﺑﻠﮑﻞ ﻭﻳﺴﺎ ﮬﮯ ﺟﻴﺴﮯ ﻣﻴﮟ چاھتا ﮬﻮﮞ. ﺍﮮﻣﻴﺮﮮ ﭘﺎﮎ ﺭﺏ ﺍﺏ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻳﺴﺎ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ ﺟﻴﺴﺎ ﮐﮧ ﺗﻮ ﭼﺎﮬﺘﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭﺯﻧﺪﮔﻲ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﻴﮟ ﺗﻮﻓﻴﻖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻧﻴﮑﻴﻮﮞ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻳﮟ ﺑﺮﺍﺋﻴﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﻳﮟ ، ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﺷﮑﺮ ﺍﻭﺭﺳﻨﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻳﮟ ،ﺑﺪﻋﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻟﮓ ﺗﮭﻠﮓ ﺭﮨﻴﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﻴﮏ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﻳﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﮮ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﻴﮟ

ﺁﻣﻴﻦ ﻳﺎ ﺭَﺏُّ ﺍﻟﻌَﺎﻟَﻤِﻴـــﻦ