Jan
20

2017

آنکھ کی پتلی پہ بھی چوکی بنا دی جائے

200 likes Category: Poetry


آنکھ کی پتلی پہ بھی چوکی بنا دی جائے
سب کو سرکار کی عینک ہی لگا دی جائے

ذِہن کی جامہ تلاشی کا بنا کر قانون
سوچنے والوں کو موقعے پہ سزا دی جائے

چند ’’ منظور شدہ ‘‘ خوابوں کو کر کے تقسیم
رات بھر جاگنے پہ قید بڑھا دی جائے

آرزُو جو کرے دیوانوں میں کر دو شامل
خواب جو دیکھے اُسے جیل دِکھا دی جائے

آج سے قومی پرندہ ہے ہمارا طوطا
نسل شاہین کی چن چن کے مٹا دی جائے

تتلیاں دُور نکل جانے پہ اُکساتی ہیں
راتوں رات اِن پہ کوئی بجلی گرا دی جائے

عقل والوں کو ڈَراتے ہیں تو ڈَر جاتے ہیں
قیسؔ بن جانے پہ تعزیر لگا دی جائے

شہزادقیس کی کتاب – انقلاب سے انتخاب