Jan
20

2017

لاش پر گولی محبت سے چلا دی جائے

226 likes Category: Poetry


لاش پر گولی محبت سے چلا دی جائے
آرزُو دار پہ تا مرگ چڑھا دی جائے

ڈھانپ دو غم کے گھنے اَبر سے نُورِ خورشید
اَندھی ملکہ کے لیے شمع جلا دی جائے

سر کے جگنو کی سَرِ شام لگا کر بولی
وَحشتِ شب کو تسلی سے ہَوا دی جائے

دیپ روشن نہ کرے کوئی اِجازَت کے بغیر
ہتھکڑی گھر کے چراغاں پہ لگا دی جائے

قتل کو روکنا ترجیح نہیں حاکم کی
کم سے کم وَقت پہ دیت تو اَدا کی جائے

چار مظلوم کہیں یکجا نہ ہونے پائیں
تعزیت کرنے پہ تعزیر لگا دی جائے

مجنوں بننے کے سِوا قیسؔ کوئی رَستہ کہاں
جب غزل مرحبا کہتے ہی بھُلا دی جائے

شہزادقیس کی کتاب – انقلاب سے انتخاب