Jan
20

2017

یوں تو مُجرِم کی ہر اِک بات بھُلا دی جائے

193 likes Category: Poetry


یوں تو مُجرِم کی ہر اِک بات بھُلا دی جائے
بے وَقوفی پہ مگر سخت سزا دی جائے

عَدل ہوتا رہے پر کوئی سزا نہ پائے
شعبدہ بازی کی تاریخ بڑھا دی جائے

قاضی بہرا ہو تو گونگے کو وَکالت دے کر
چار اَندھوں کو سماعت یہ دِکھا دی جائے

لوحِ گُم گشتہ میں ہر فیصلہ کر کے محفوظ
پڑھ کے تحریرِ شہنشاہی سنا دی جائے

حق مکرر سنے جانے کا ہے توہینِ قضا
اِعتراضات پہ تعزیر لگا دی جائے

اَپنے اَعمال پہ گَڑ جائے زَمیں میں فی الفور
عَدل کی آنکھ سے گر پٹّی ہٹا دی جائے

عَدل کے فیصلوں میں پختگی آ جائے قیسؔ
اِک کٹہرے میں اَگر آگ جلا دی جائے

شہزادقیس کی کتاب – انقلاب سے انتخاب