LeftRight

Monthly Archives : October 2014

Affordable SEO by SEOClerks

ﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮪﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺭﺍﺿﯽ ﮪﻮﮞ۔ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﺎﻡ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﻟﻖ ﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮪﮯ۔ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﺎﻗﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ۔ ﺗﺠﮭﮯ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﻣﺸﮑﻞ ﺩﺭﭘﯿﺶ ﮪﮯ ﻭﮦ ﺗﯿﺮﮮ ﻃﺮﺯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮪﮨﮯ، ﻭﺭﻧﮧ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺁﺳﺎﻥ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺴﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻋﺎﺩﯼﮪﯿﮟ ﻭﮦ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯾﺘﮯ ﮪﯿﮟ۔ ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﺮﻣﯽ ﮐﺎ ﺑﺮﺗﺎﺅ ﮐﺮﻭ ﺧﺪﺍ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﺮﻣﯽ ﮐﺎ ﺑﺮﺗﺎﺅ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ”

ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺭﻭﻡ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ


اگر آپ کامیاب عشق کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو ایک غیر عاشق اور عاقل قسم کا شخص ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ ہی ایک بہت گھٹیا اور عیار شخص بھی، آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں یے “عشق” کے ساتھ “کرنا” کا لفظ کیوں استعمال کیا ہے۔ عشق تو ہو جاتا ہے، کیا نہیں جاتا۔

بھائیو یہ ایک بحٖث طلب بات ہے۔ میرا یہ خیال ہے کہ عشق ہوتا نہیں کیا جاتا ہے اور چونکہ میں ایک شاعر ہوں اور عشق کے موضوع پر سب سے بڑی سند شاعر ہوتے ہیں اس لیے آپ کو میری بات ماننا پڑے گی، اگر عشق کے موضوع پر مجھے یعنی ایک شاعر کو سند نہیں مانا جائے گا تو کیا کسی آئی جی،ڈپٹی کمشنر اور ان سے اوپر جا کر کسی کمانڈر انچیف’ وزیراعظم یا کسی صدر مملکت کے قول کو سند مانا جائے گا۔ یہ لوگ تو یکسر نا بجا طور پر وہ خوش نصیب ترین اور عام لوگ قسم کے لوگ ہوتے ہیں جو نہ عشق کرتے ہیں اور جنہیں نہ عشق ہوتا ہے۔ ان سے تو، ان ظالموں اور قاتلوں سے تو عشق لڑایا جاتا ہے، ہر بدزوق،بے شعور، بد باطن اور دنیا دار حسینہ انہی لوگوں کو پٹانے کی فکر میں رہتی ہے۔


معلوم ہوا کہ ہدایت جہاں سے ملنی ہوتی ہے ، وہیں سے ملتی ہے ۔ جہاں کسی پہنچے ہوئے بزرگ کی نگاہ کام نہیں کرتی وہاں کسی انتہائی گنہگار ، بدکار اور برے انسان کی بات بول کام کر جاتے ہیں ۔ ماں باپ کہتے کہتے تھک ، ہار، عاجز آ جاتے ہیں مگر وہی بات کوئی سجن بیلی کہہ دیتا ہے تو فوراً مان لی جاتی ہے ۔ بڑے بڑے قابل اور کوالیفائیڈ ڈاکٹروں ، معالجوں سے افاقہ نہیں ملتا اور فٹ پا تھ پہ بیٹھنے والے عطائی حکیم سے شفا نصیب ہو جاتی ہے ۔ میں نے پڑھا ہے اور بار بار میرے تجربے مشاہدے میں آیا ہے کہ اچھوں ، نیکوں اور حاجیوں نمازیوں سے کہیں زیادہ گنہگا روں ، خطا کاروں اور بروں کی بات میں اثر ہوتا ہے وہ زیادہ دلپذ یر اور دلنشین ہوتی ہیں ۔ بظاہر برے ، بدمعاش ، اجڑے ہوئے اور شرابی کبابی لوگ اچھوں ، نیکوں سے کہیں بڑھ کر وفادار اور وقت پہ کام آنے والے ہوتے ہیں ۔


ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺳﺨﺖ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻧﮕﮩﺪﺍﺷﺖ ﮐﮯ ﺷﻌﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﺗﮭﯽ۔ ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺮﺧﻮﺭﺩﺍﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﻮﺕ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﮨﻢ ﺍﺏ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺗﻢ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻟﻤﺤﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺮﯼ ﺧﺒﺮ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺫﮨﻨﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﺭﮨﻨﺎ۔

ﺭﺍﺕ ﮔﮭﺮ ﮔﺰﺍﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺻﺒﺢ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﭩﺮﻭﻝ ﭘﻤﭗ ﭘﺮ ﺭﮐﺎ، ﭘﭩﺮﻭﻝ ﺑﮭﺮﻭﺍﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺳﺮﻭﺱ ﺷﺎﭖ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮍﯼ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺑﻠﯽ ﻧﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﮈﺑﮯ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺑﭽﮯ ﺩﮮ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﯾﮧ ﻧﻮﺯﺍﺋﯿﺪﮦ ﺑﭽﮯ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﭼﻠﻨﮯ ﭘﮭﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ۔


کہتے ہیں کہ پُرانے زمانے کے ایک استاد صاحب بڑی ثقیل قسم کی اردو بولا کرتے تھے اور ان کی اپنے شاگردوں کو بھی نصیحت تھی کہ جب بھی بات کرنی ہو تو تشبیہات ، استعارات ، محاورات اور ضرب المثال سے آراستہ پیراستہ اردو زبان استعمال کیا کرو۔
ایک بار دورانِ تدریس یہ استاد صاحب حقہ پی رہے تھے.  انہوں نے جو زور سے حقہ گڑگڑایا تو اچانک چلم سے ایک چنگاری اڑی اور استاد جی کی پگڑی پر جا پڑی۔  ایک شاگرد اجازت لے کر اٹھ کھڑا ہوا اور بڑے ادب سے گویا ہوا:۔


اُس نے سامنے پہاڑوں پر پھیلتی دھوپ اور اُداسی کے رنگوں کو اپنے دل میں اترتے ہوئے محسوس کیا تھا۔ وہ ایک بڑے سارے پتھر پر بے تکلفی سے بیٹھی ہوئی تھی۔وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس کی غیرموجودگی میں ان کے ملنے جلنے والے اُس کو یا اس کہ بہنوں کو بھی ڈسکس کر سکتے ہیں اس کا تعلق جس کلاس سے تھا وہاں کسی کے پاس بھی ایک دوسرے کی ذاتیات کو ڈسکس کرنے کا کہاں وقت ہوتا ہے لیکن یہ اس پر آج ادراک ہواتھا کہ طبقہ کوئی بھی ہو،لوگ دوسروں کی ذات پر بات کرنے کا وقت کہیں نہ کہیں سے نکال ہی لیتے ہیں،دوسروں کے زخموں کو کریدنااور ان سے لطف اندوز ہونا تو ویسے بھی کچھ لوگوں کا پسندیدہ مشغلہ ہوتاہے،چھوٹی ذہنیت کی کوئی کلا س نہیں ہوتی۔

صائمہ اکرم چوہدری کے ناول ’’ابن آدم‘‘سے اقتباس


فوٹو شاپ میں اُس کی مہارت کا ایک زمانہ مُعترف تھا۔ تصویر کی مناسبت سے شعروں کے اِنتخاب میں بھی اُس کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ فیس بُک پہ اُس کے دوستوں کی فہرست 4000 کا عدد عُبور کر چُکی تھی۔ اُس کے حلقۂ احباب میں 90فیصد لڑکیاں تھیں۔ شوق سے زیادہ یہ اُس کی ضرورت تھی۔ سادہ لوح لڑکیاں اپنے اسکول’ کالج اور خاندان میں ہونے والی نجی تقریبات کی تصاویر فیس بُک کی نذر کرنے میں ذرا دیر نہیں لگاتیں اِسی لئے نیوز فیڈ کا تجزیہ وہ بڑی باریک بینی سے کرتا تھا۔
وہ ہمیشہ گُلابی رُخساروں’ ریشمی زُلفوں’ ہرن جیسی آنکھوں اور خوبصورت جسمانی خُطوط کی تلاش میں رہتا۔ کلاسیکی شاعری کے اساتذہ کے مجموعے اُس کی میز پر بِکھرے رہتے۔ مطلوبہ حسینہ کی تصویر نِشانے پر آتے ہی وہ فوٹو شاپ کی جادو گری سے اُس کو مزید دو آتشہ بنا کر اُس پہ ایک کرارا شعر چسپاں کرتا اور فیس بُک کی سنگدل دُنیا کے حوالے کر دیتا اور پِھر مُسکراتے ہوئے لاہیکس کی تعداد اور مصالحے دار تبصرے پڑھتا رہتا۔
پِھر ایک دِن اُسے ایک فرمائش موصول ہوئی۔ اُس کے ایک مداح نے انباکس میں ایک تصویر بھیجی تھی۔


حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص ایسا تھا جو اپنی توبہ پر کبھی ثابت قدم نہیں رہتا تھا۔جب بھی وہ توبہ کرتا،اسے توڑ دیتا یہاں تک کہ اسے اس حال میں بیس سال گزر گئے۔ اللّہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی،میرے اس بندے سے کہہ دو میں تجھ سخت ناراض ہوں۔جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس آدمی کو اللّہ کا پیغام دیا تو وہ بہت غمگین ہُوا اور جنگلوں کی طرف نکل گیا۔وہاں جا کر بارگاہِ ربّ العزت میں عرض کی،اے ربّ ذوالجلال! ” تیری رحمت کم ہو گئی یا میرے گناہوں نے تجھے دُکھ دیا؟تیری بخشش کے خزانے ختم ہو گئے یا بندّوں پر تیری نگاہِ کرم نہیں رہی؟تیرے عفو و درگزر سے کون سا گناہ بڑا ہے؟تُو کریم ہے،میں بخیل ہوں،کیا میرا بخل تیرے کرم پر غالب آ گیا ہے؟اگر تُو نے اپنے بندّوں کو اپنی رحمت سے محروم کر دیا تو وہ کس کے دروازے پر جائیں گے؟اگر تُو نے دھتکار دیا تو وہ کہاں جائیں گے؟اے ربِّ قادر و قہار! اگر تیریبخشش کم ہو گئی ھے اور میرے لیے عذاب ہی رہ گیا ہے تو تمام گناہ گاروں کا عذاب مجھے دے دے میں اُن پر اپنی جان قربان کرتا ہوں۔ “