LeftRight

Monthly Archives : February 2016


ایک یہودی جس کا نام “ویلینٹائن” تھا نے شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی کے بیچ زنا کو جائز قرار دیا تھا.اسی بات پر انگلینڈ کی گورمنٹ نے اسے 14 فروری کو پھانسی کی سزا دی تھی.اس دن کو انگلینڈ کی نئ نسل نے اسکی یاد میں منانا شروع کر دیا.افسوس صد افسوس کہ اب مسلمانوں نے بھی اس بے حیا اور بے شرم نسل کی طرح اس دن کو منانا شروع کر دیا ہے.
:یاد رکھیں
رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی احادیث مبارکہ يه ہے کہ، ” جو شخص جس قوم کی مشابہت کرے گا وہ انہی میں سے ہو گا ” (ابو داؤد
بے حیائی کی حمایت اور برداشت کرنے والوں کو دیوث کہا جاتا ہے اور ديوث کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے کہ تین قسم کے لوگوں پر اللہ نے جنت کا داخلہ حرام قرار دیا ہے :
١- دائمی شرابی ٢- ماں باپ کا نافرمان اور ٣- دیوث -جو اپنے بیوی بچوں میں بے حیائی برداشت کرتا ہے

Affordable SEO by SEOClerks

خواتین و حضرات ! گاڑی کا وہ مکینک کام کرتے کرتے اٹھا، اس نے پنکچر چیک کرنے والے ٹب سے ہاتھ گیلے کئے اور ویسے ہی جاکر کھانا کھانا شروع کردیا-میں نے اس سے کہا کہ ’’اللہ کے بندے اس طرح گندے ہاتھوں سے کھانا کھاؤ گے تو بیمار پڑجاؤ گے۔ ہزاروں جراثیم تمہارے پیٹ میں چلے جائیں گے۔ کیا تم نے کبھی اس طرح کی باتیں ڈیٹول صابن کے اشتہار میں نہیں دیکھیں۔‘‘
تو اس نے جواب دیا کہ ’’صاحب جب ہم ہاتھوں پر پہلا کلمہ پڑھ کر پانی ڈالتے ہیں تو سارے جراثیم خود بخود مرجاتے ہیں اور جب بسم اللہ پڑھ کر روٹی کا لقمہ توڑتے ہیں تو جراثیموں کی جگہ ہمارے پیٹ میں برکت اور صحت داخل ہوجاتی ہے۔‘‘ مجھے اس مکینک کی بات نے ہلا کر رکھ دیا۔ یہ تو اس کا توکل تھا جو اسے بیمار نہیں ہونے دیتا تھا۔ میں اس سے اب بھی ملتا ہوں۔ اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی وہ مجھ سے زیادہ صحت مند ہے۔
(از اشفاق احمد ۔ زاویہ ۳ ’’ خدا سے زیادہ جراثیموں کا خوف‘‘ سے اقتباس)