LeftRight

Monthly Archives : January 2017


یوں تو مُجرِم کی ہر اِک بات بھُلا دی جائے
بے وَقوفی پہ مگر سخت سزا دی جائے

عَدل ہوتا رہے پر کوئی سزا نہ پائے
شعبدہ بازی کی تاریخ بڑھا دی جائے

قاضی بہرا ہو تو گونگے کو وَکالت دے کر
چار اَندھوں کو سماعت یہ دِکھا دی جائے

لوحِ گُم گشتہ میں ہر فیصلہ کر کے محفوظ
پڑھ کے تحریرِ شہنشاہی سنا دی جائے

حق مکرر سنے جانے کا ہے توہینِ قضا
اِعتراضات پہ تعزیر لگا دی جائے

اَپنے اَعمال پہ گَڑ جائے زَمیں میں فی الفور
عَدل کی آنکھ سے گر پٹّی ہٹا دی جائے

عَدل کے فیصلوں میں پختگی آ جائے قیسؔ
اِک کٹہرے میں اَگر آگ جلا دی جائے

شہزادقیس کی کتاب – انقلاب سے انتخاب

Affordable SEO by SEOClerks

آنکھ کی پتلی پہ بھی چوکی بنا دی جائے
سب کو سرکار کی عینک ہی لگا دی جائے

ذِہن کی جامہ تلاشی کا بنا کر قانون
سوچنے والوں کو موقعے پہ سزا دی جائے

چند ’’ منظور شدہ ‘‘ خوابوں کو کر کے تقسیم
رات بھر جاگنے پہ قید بڑھا دی جائے

آرزُو جو کرے دیوانوں میں کر دو شامل
خواب جو دیکھے اُسے جیل دِکھا دی جائے

آج سے قومی پرندہ ہے ہمارا طوطا
نسل شاہین کی چن چن کے مٹا دی جائے

تتلیاں دُور نکل جانے پہ اُکساتی ہیں
راتوں رات اِن پہ کوئی بجلی گرا دی جائے

عقل والوں کو ڈَراتے ہیں تو ڈَر جاتے ہیں
قیسؔ بن جانے پہ تعزیر لگا دی جائے

شہزادقیس کی کتاب – انقلاب سے انتخاب


لاش پر گولی محبت سے چلا دی جائے
آرزُو دار پہ تا مرگ چڑھا دی جائے

ڈھانپ دو غم کے گھنے اَبر سے نُورِ خورشید
اَندھی ملکہ کے لیے شمع جلا دی جائے

سر کے جگنو کی سَرِ شام لگا کر بولی
وَحشتِ شب کو تسلی سے ہَوا دی جائے

دیپ روشن نہ کرے کوئی اِجازَت کے بغیر
ہتھکڑی گھر کے چراغاں پہ لگا دی جائے

قتل کو روکنا ترجیح نہیں حاکم کی
کم سے کم وَقت پہ دیت تو اَدا کی جائے

چار مظلوم کہیں یکجا نہ ہونے پائیں
تعزیت کرنے پہ تعزیر لگا دی جائے

مجنوں بننے کے سِوا قیسؔ کوئی رَستہ کہاں
جب غزل مرحبا کہتے ہی بھُلا دی جائے

شہزادقیس کی کتاب – انقلاب سے انتخاب


دِل دَھڑکنے پہ بھی پابندی لگا دی جائے
لاش اِحساس کی سُولی پہ چڑھا دی جائے

جاں بچانے کا پتنگوں کی بہانہ کر کے
شمع جلنے سے بھی کچھ پہلے بجھا دی جائے

روز خود سوزِیوں سے اُٹھتی ہے ہم پر اُنگلی
خود کشی جو کرے گردَن ہی اُڑا دی جائے

لوگ خوشبو کے تعاقب میں نکل پڑتے ہیں
پھول پر دیکھتے ہی گولی چلا دی جائے

سانس لینے کے بھی اَوقات مقرر کر کے
حَبس دَر حَبس کو دوزَخ کی ہَوا دی جائے

کام تحریر مٹانے کا بہت بڑھنے لگا
نعرے لکھے ہوں تو دیوار گرا دی جائے

جبرِ حالات سے ہر شخص کو مجنوں کر کے
بھیڑ میں قیسؔ کی آواز دَبا دی جائے

شہزادقیس کی کتاب – انقلاب سے انتخاب


اَبر کے چاروں طرف باڑ لگا دی جائے
مفت بارِش میں نہانے پہ سزا دی جائے

سانس لینے کا بھی تاوان کیا جائے وُصول
سبسڈی دُھوپ پہ کچھ اور گھٹا دی جائے

قہقہہ جو بھی لگائے اُسے بِل بھیجیں گے
پیار سے دیکھنے پہ پرچی تھما دی جائے

کون اِنسان ہے کھاتوں سے یہ معلوم کرو
بے لگانوں کی تو بستی ہی جلا دی جائے

یہ اَگر پیشہ ہے تو اِس میں رِعایت کیوں ہو
بھیک لینے پہ بھی اَب چُنگی لگا دی جائے

حاکمِ وَقت سے قزاقوں نے سیکھا ہو گا
باج نہ ملتا ہو تو گولی چلا دی جائے

کچی مِٹّی کی مہک مفت طلب کرتا ہے
قیسؔ کو دَشت کی تصویر دِکھا دی جائے

شہزادقیس کی کتاب – انقلاب سے انتخاب ۔