Nov
25

2017

بلیک فرائیڈے

14 likes Category: Columns Tags:


بلیک فرائیڈے نامی اصطلاح کو لیکر کچھ مسلمان دوستوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ چونکہ یہ ہمارا مقدس مذہبی دن ہے اسلئے اسے بلیک فرائیڈے نا کہا جاۓ ، آنے والے ایک دو روز میں اس ” بلیک فرائیڈے ” کو لیکر مزید شدت آنے کا امکان ہے . کچھ دوست بلیک فرائیڈے کے مدمقابل وائٹ فرائیڈے ، برائٹ فرائیڈے یا بلیسڈ فرائیڈے کی اصطلاح استعمال کرنے لگے ہیں .
چلیں سب سے پہلے تو یہ سمجھ ؛لیتے ہیں کہ یہ ” بلیک فرائیڈے ” ہے کیا ؟اور یہ ٹرم استعمال کیوں کی جاتی ہے ؟
بلیک فرائیڈے دراصل مسیحی تہوار کرسمس کی شاپنگ کے آغاز کا نام ہے ، امریکہ و مغربی ممالک میں اس روز سے تمام دکاندار اور کروباری حضرات اپنے شاپنگ مالز میں غیر معمولی ڈسکاؤنٹ پر سیل لگا دیتے ہیں وہ آئٹم جو عام دنوں میں اگر 100 ڈالر کا ہوتا ہے تو اس شاپنگ فیسٹیول کے دوران اس کی قیمت 60 سے 70 ڈالر کردی جاتی ہے . لگ بھگ ایسا یا اس سے بہتر ڈسکاؤنٹ آفر بھی مل جاتا ہے اور اس سب کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ ہر خاص و عام کرسمس کی خوشیاں اپنی فیملی کا ساتھ منا سکے ، کاروباری حضرات اپنا منافع بہت کم رکھتے ہیں پر اتنی بڑی تعداد میں مال فروخت ہوتا ہے کہ انکے اگلے پچھلے سارے نقصان کوور ہوجاتے ہیں ، میرے بہت سارے دوست اور اکثریت میں مغربی اور ایشیائی باشندے اس دوران پورے سال کی شاپنگ کرلیتے ہیں ، لہٰذا شاپنگ سینٹرز اور سڑکوں پر لگنے والی لمبی قطاروں کو دیکھتے ہوئے اس دن کو ” بلیک فرائیڈے ” یعنی ” افراہ تفریح ” والا دن کہا جاتا ہے .
اب آتے ہیں ہم اپنے مسلمان بھائیوں کی جانب
جناب وہ اسے بلیک فرائیڈے کہیں یا ریڈ فرائیڈے ، آپکا اس سے کیا لینا دینا ؟
غیرت اور شرم کی بات یہ نہیں کہ وہ دن کو بلیک یا وائٹ کہ کر سہولتیں دیں ، غیرت اور شرم کی بات یہ ہے کہ کوئی دنوں کو مقدس بتا کر لوٹ لے . چلیں آئیں ذرا دیکھتے ہیں کے ہم کیا کرتے ہیں .
ہمارا رمضان کا مقدس مہینہ آتا ہے جسے کسی انسان نے نہیں بلکہ الله پاک نے مقدس اور نعمتوں والا کہا ہے پر ہم نے اس مقدس ماہ کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟
ہر وہ آئٹم جو رمضان کے ماہ میں استعمال ہوتا ہے اسکی قیمت دس سے بیس گنا زائد تک بڑھا دی جاتی ہے .
پھر آتا ہے خوشیوں کا تہوار عید
وہ کپڑا جو عام دنوں میں 500 کا ملتا ہے عید کے تہوار پر وہ آپکو 2000 کا ملے گا
پھر آتی ہے بڑی عید یا قربانی والی عید
وہ جانور جو قربانی سے قبل عام دنوں میں 30 سے 40 ہزار کا ملتا ہے ، اس تہوار پر اسکی قیمت 70 ہزار سے 1 لاکھ تک کردی جاتی ہے
پھر آیا محرم
اس میں حلیم کیلئے ذرا خالی دیگ کی قیمت ہی معلوم کرلیں تو ہوش ٹھکانے آجانے
پھر آتا ہے ربیع الاول
ذرا لائٹز اور ” نعت خوانوں ” کا ریٹ معلوم کرلیں لگ پتا جانا کہ ہم کتنے عاشق رسول صلی الله علیہ وسلم ہیں
ہمارے حج کا فریضہ
یہ وہ فریضہ ہے جسکی اس لئے ہمارے بزرگ دنیا سے رخصت ہوجات ہیں ، جس کے نظارے ٹی وی پر دیکھتے انکی آنکھوں سے آنسو نہیں روکتے پر وہ اس پاک جگہ کی زیارت نہیں کر پاتے کہ انکے پاس 3 لاکھ روپے نہیں ہوتے .
کہاں تک گنو گے اور میں کہاں تک گنواؤں
یہاں تمام مسلک اور فرقوں کا ذکر کیا ذرا بتائیں کون کس کو سہولت دے رہا ؟ مسلمان تو چلو چھوڑ ہی دیں اپنے مسلک اور فرقہ والوں کو الٹی چھری سے ذبح کرنے سے باز نہیں آتے ہم اور انگلیاں اٹھا اور غیرت کھا رہے ہیں کہ ” فرائیڈے کو بلیک ” کیوں کہتے ہیں ؟ ارے جناب ذرا گریباں میں جھانکیں ہم نے تو اپنے مذہبی فریضوں سے لیکر تہواروں تک کو غریبوں کے لئے ایک ” بلیک ڈریم ” بنا دیا ہے . جہاں بچے خوش ہوتے ہیں کہ عید آرہی ہے وہیں غریب والدین کا سانس سوکھا ہوتا ہے کہ عید پر بچوں کو کپڑے کیسے خرید کر دیں گے ؟
میں اپنی بات کروں تو مجھے 6 سال سے زائد عرصۂ ہوگیا عید پر شاپنگ کئے ہوئے ، یا تو رمضان سے قبل شاپنگ کرتا ہوں یا پھر عید کے بعد .
خدا ہم سے یہ تو شاید نا پوچھے کہ جمعہ کو بلیک کہا گیا تو تم نے کیا کردیا ؟
پر خدا یہ ضرور پوچھے گا کہ جن مہینوں اور تہواروں کو میں نے تم پر حلال کیا وہ تم نے غریب کے لئے حرام کیوں کردئے ؟

تحریر: ملک جہانگیر اقبال