LeftRight

Category : Columns


ﯾﮧ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ 40 ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﮬﯿﮟ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻭﺍﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺗﮏ ﺿﺮﻭﺭ ﭘﮩﻨﭽﺎﺋﯿﮟ
ﺟﺰﺍﮎ ﺍﻟﻠﮧ

💠 ﺍِﻧّﻤﺎ ﺍﻻَﻋْﻤَﺎﻝُ ﺑِﺎﻟﻨّﯿَّﺎﺕ
ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﺎ ﺩﺍﺭﻭﻣﺪﺍﺭ ﻧﯿﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻟﺼّﻠٰﻮﺓ ﻧُﻮﺭُ ﺍﻟﻤُﻮﻣِﻦِ
ﻧﻤﺎﺯ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻟﺼّﯿَﺎﻡُ ﺟُﻨّﺔٌ
ﺭﻭﺯﮦ ﮈﮬﺎﻝ ﮬﮯ

💠 ﺍِﻥّ ﺍﻟﺪِّﯾﻦَ ﯾُﺴْﺮ
ﺑﯿﺸﮏ ﺩﯾﻦ ﺁﺳﺎﻥ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻟﺪِّﯾﻦُ ﺍﻟﻨَّﺼِﻴﺤَﺔُ
ﺩﯾﻦ ﺧﯿﺮﺧﻮﺍﮬﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻟﻌَﯿﻦُ ﺣَﻖٌّ
ﻧﻈﺮِ ﺑﺪ ﺣﻖ ﮬﮯ

Affordable SEO by SEOClerks

The history of Pakistan is marked with golden chapters one of them being the 6th of September when its armed forces defended the country in 1965.

The day is still observe after a passage of 52 years since India thrust another war upon Pakistan with disastrous results and dismemberment of the country.

People strongly feel that it is now more important to remember the 6th September, 1965, as it was Pakistan’s finest hour.

The 6th of September is important because the war between Pakistan and India that followed was fought by Pakistan as a nation united in its determination and resolve to stop and repel the attacks by India.

While a number of decisions made by the army high command during the four wars fought by the country have been the subject of controversy, what has remained unquestioned is the valour displayed by thousands of jawans and young officers in all these conflicts.

There are those of the mindset who feel that 6th September should be renamed “memorial day”.


ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﺍِﺻﻼﺡ ﻓﺮﻣﺎ، ﮬﻤﯿﮟ ﮬﺪﺍﯾﺖ ﺩﮮ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﮟ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﭼﻼ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﮏ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﺩﮮ ﺍﻭﺭﮬﻤﯿﮟ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﻳﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﻴﺮﻱ ﻋﺰﺕ ﮐﻴﻠﺌﮯ ﻳﮩﻲ ﮐﺎﻓﻲ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻣﻴﮟ ﺗﻴﺮﺍ ﺑﻨﺪﮦ ﮬﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻴﺮﮮ ﻓﺨﺮ ﮐﻴﻠﺌﮯﻳﮩﻲ ﮐﺎﻓﻲ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺗﻮ ﻣﻴﺮﺍ ﺭﺏ ﮬﮯ ﺍﮮ ﻣﻴﺮﮮ ﭘﺎﮎ ﺭﺏ ﺗﻮ ﺑﻠﮑﻞ ﻭﻳﺴﺎ ﮬﮯ ﺟﻴﺴﮯ ﻣﻴﮟ چاھتا ﮬﻮﮞ. ﺍﮮﻣﻴﺮﮮ ﭘﺎﮎ ﺭﺏ ﺍﺏ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻳﺴﺎ ﺑﻨﺎ ﺩﮮ ﺟﻴﺴﺎ ﮐﮧ ﺗﻮ ﭼﺎﮬﺘﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭﺯﻧﺪﮔﻲ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﻴﮟ ﺗﻮﻓﻴﻖ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻧﻴﮑﻴﻮﮞ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻳﮟ ﺑﺮﺍﺋﻴﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﻳﮟ ، ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﺷﮑﺮ ﺍﻭﺭﺳﻨﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻳﮟ ،ﺑﺪﻋﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﻟﮓ ﺗﮭﻠﮓ ﺭﮨﻴﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﻴﮏ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﻳﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﮮ ﮐﺎﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﻴﮟ

ﺁﻣﻴﻦ ﻳﺎ ﺭَﺏُّ ﺍﻟﻌَﺎﻟَﻤِﻴـــﻦ


زکوة ادا کرنا ہر با حیثیت مسلمان پر فرض ہے اور ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے۔ مگر افسوس کی بات ہے مسلمانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ اس کا تذکرہ سن کر تنگ دل ہونے لگتا ہے اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو زکوة تو ادا کرتے ہیں۔مگر پورا حساب کتاب کئے بغیر محض اندازے سے یا ذوق کے مطابق کچھ مال زکوة کے نام سے نکال دیا حالانکہ یہ بھی بڑی کوتاہی ہے، زکوٰةنکالنے کے لئے پہلے پورا حساب کتاب کیا جائے تاکہ زکوٰة کی اصل رقم معلوم ہو اور پھر اس کی ادائیگی کی ترتیب بنائی جائے ۔
یہ مشہور حدیث تو ہر مسلمان کو یاد ہونی چاہئے اور دل میں اس پر کامل یقین ہو تاکہ اسلام کی بنیاد کمزور نہ ہو۔ وہ حدیث نبی کریمﷺ کا یہ فرمان ہے:
”اسلام کی بیناد پانچ چیزوں پر ہے(۱) لا الہ الا اﷲمحمد رسول اﷲ کا اقرار(۲) نماز قائم کرنا(۳) زکوٰة ادا کرنا(۴) رمضان کے روزے رکھنا(۵) بیت اﷲ کا حج کرنا۔
زکوٰةکے بارے میں قرآن وحدیث میں کثرت اور وضاحت کے ساتھ تمام ضروری احکام و ہدایات موجود ہیں اور زکوٰة ادا نہ کرنے پر بہت سخت وعیدات و تنبیہات سنائی گئی ہیں اور یہ سب اہتمام ہم جیسے ایمان والوں کے لئے گیا ہے جو نفس اور شیطان کے بہکاوے میں آکر اسلامی احکامات سے دور ہو جاتے ہیں
:آیات قرآنی
:ارشاد باری تعالیٰ ہے


حالات بہت خراب تھے۔کوئی بچت نہ تھی۔بہت مشکلات میں گزارہ ہو رہا تھا۔
ایسے میں دماغ میں آیا کیوں نہ کوئی جن قابوکیاجایے۔اک بابا جی کا پتہ ملا جو مددگار ثابت ہو سکتے تھے۔انہوں نے اک عمل بتایا۔عمل کےلیے رات کو اپنے گھر کے اک کمرے کا انتخاب کیا۔
تین دن عمل چلتا رہا۔ڈراؤنی شکلیں نظرآتی تھیں۔چوتھی رات کا عمل جاری تھا میں حصار میں تھا کہ اچانک اک آواز آئی ‘حمنہ کے ابا،حمنہ کا فیڈر فریج سے نکال لاو،۔
میں سمجھ گیا کہ کوئی ہوائی مخلوق مجھے تنگ کرنا چاہتی ہے۔پھر آواز آئی میں نظرانداز کرگیا۔دس منٹ بعد میں نے دیکھا کہ اک چڑیل میری بیوی کی شکل میں میری طرف آرہی ہے۔
میں ورد کرتا رہا کیونکہ میں تو حصار میں تھا۔وہ چڑیل میرے پاس آئی اس کے ہاتھ میں بیلن تھا۔ میں بولا جا بھاگ جا چڑیل
بس اتنا کہنا تھا کہ وہ حصار کے اندر آئی اور دھپا دھپ بیلن سے مارنے لگی۔جب میں مار کھا رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ حصار کے باہر جنات پیٹ پکڑ کے ہنس رہے تھے۔
تب احساس ہوا کہ اوریجنل بیوی سے مار کھا رہا ہوں۔جب وہ مار مار کےتھک گئی اور میں حصار سے باہر آیاتو اک جن میرے کان میں آکے بولا ‘سرکار پہلے اپنی بیگم قابو کرو فیر ساڈا سوچنا’
!..میں بولا ‘جن بابا فیر تے نا ای سمجھو’


ایک یہودی جس کا نام “ویلینٹائن” تھا نے شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی کے بیچ زنا کو جائز قرار دیا تھا.اسی بات پر انگلینڈ کی گورمنٹ نے اسے 14 فروری کو پھانسی کی سزا دی تھی.اس دن کو انگلینڈ کی نئ نسل نے اسکی یاد میں منانا شروع کر دیا.افسوس صد افسوس کہ اب مسلمانوں نے بھی اس بے حیا اور بے شرم نسل کی طرح اس دن کو منانا شروع کر دیا ہے.
:یاد رکھیں
رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی احادیث مبارکہ يه ہے کہ، ” جو شخص جس قوم کی مشابہت کرے گا وہ انہی میں سے ہو گا ” (ابو داؤد
بے حیائی کی حمایت اور برداشت کرنے والوں کو دیوث کہا جاتا ہے اور ديوث کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے کہ تین قسم کے لوگوں پر اللہ نے جنت کا داخلہ حرام قرار دیا ہے :
١- دائمی شرابی ٢- ماں باپ کا نافرمان اور ٣- دیوث -جو اپنے بیوی بچوں میں بے حیائی برداشت کرتا ہے


خواتین و حضرات ! گاڑی کا وہ مکینک کام کرتے کرتے اٹھا، اس نے پنکچر چیک کرنے والے ٹب سے ہاتھ گیلے کئے اور ویسے ہی جاکر کھانا کھانا شروع کردیا-میں نے اس سے کہا کہ ’’اللہ کے بندے اس طرح گندے ہاتھوں سے کھانا کھاؤ گے تو بیمار پڑجاؤ گے۔ ہزاروں جراثیم تمہارے پیٹ میں چلے جائیں گے۔ کیا تم نے کبھی اس طرح کی باتیں ڈیٹول صابن کے اشتہار میں نہیں دیکھیں۔‘‘
تو اس نے جواب دیا کہ ’’صاحب جب ہم ہاتھوں پر پہلا کلمہ پڑھ کر پانی ڈالتے ہیں تو سارے جراثیم خود بخود مرجاتے ہیں اور جب بسم اللہ پڑھ کر روٹی کا لقمہ توڑتے ہیں تو جراثیموں کی جگہ ہمارے پیٹ میں برکت اور صحت داخل ہوجاتی ہے۔‘‘ مجھے اس مکینک کی بات نے ہلا کر رکھ دیا۔ یہ تو اس کا توکل تھا جو اسے بیمار نہیں ہونے دیتا تھا۔ میں اس سے اب بھی ملتا ہوں۔ اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی وہ مجھ سے زیادہ صحت مند ہے۔
(از اشفاق احمد ۔ زاویہ ۳ ’’ خدا سے زیادہ جراثیموں کا خوف‘‘ سے اقتباس)


تین نوجوان ملک سے باھر سفر پر جاتے ھیں اور وھاں ایک ایسی عمارت میں ٹھہرتے ھیں جو 75 منزلہ ھے.. ان کو 75 ویں منزل پر کمرہ ملتا ھے.. ان کو عمارت کی انتظامیہ باخبر کرتی ھے کہ یہاں کے نظام کے مطابق رات کے 10 بجے کے بعد لفٹ کے دروازے بند کر دیے جاتے ھیں لھذا ھر صورت آپ کوشش کیجیے کہ دس بجے سے پہلے آپ کی واپسی ممکن ھو کیونکہ اگر دروازے بند ھوجائیں تو کسی بھی کوشش کے باوجود لفٹ کھلوانا ممکن نہ ھوگا..
پہلے دن وہ تینوں سیر و سیاحت کے لیے نکلتے ھیں تو رات 10 بجے سے پہلے واپس لوٹ آتے ھیں مگر دوسرے دن وہ لیٹ ھوجاتے ھیں.. اب لفٹ کے دروازے بند ھو چکے تھے.. ان تینوں کو اب کوئی راہ نظر نہ آئی کہ کیسے اپنے کمرے تک پہنچا جائے جبکہ کمرہ 75 منزل پر ھے


ایک شخص نائی کی دوکان بال اور داڑھی بنانے کے لئے گیا۔ جیسا کہ عموماً ھوتا ھے نائی اور گاھک کے درمیان گفتگو شروع ھو گئی۔ بات جب اللہ کے موضوع پر آئی تو نائی نے کہا؛
’’مجھے (نعوذباللہ) اللہ کے وجود پر یقین نہیں ھے.‘‘
گاھک نے پوچھا کہ وہ کیوں؟


اسلام میں عورت ذات کو بہت عزت کا مقام دیا گیا ہے. عورت کا ہر روپ بطور ماں، بہن، بیٹی، بیوی خوبصورت اور قابل احترام ہے.مگر آج کل بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں عورت سے ایک اور غلط رشتہ جوڑ دیا گیا ہے جسے ” گرل فرینڈ ” کہتے ہیں.یہ ایک انتہائی غلیظ رشتہ ہے